بنگلورو۔4؍ اگست(سیاست نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار کی زبردست حمایت کرتے ہوئے انہیں وزارت سے برطرف کرنے بی جے پی کے مطالبہ کو یکسر مسترد کردیا اور کہاکہ شیوکمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا بی جے پی کو کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ اگر بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ شیوکمار کو مستعفی ہوجانا چاہئے تو پہلے یڈیورپا شیموگہ کی لوک سبھا رکنیت سے مستعفی ہوں اور مرکزی وزیر اننت کمار جن پر ہڈکو گھپلے کے الزامات ہیں ، عہدہ سے مستعفی ہوجائیں ، بعد ازاں شیوکمار کے بارے میں غور کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپے کے سبب شیوکمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے بی جے پی لیڈران پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لیں کہ وہ کتنے دیانتدار ہیں بعد ازاں دوسروں کو ہٹانے کے بارے میں کہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مرکزی مودی حکومت نے ایک منظم سازش کے تحت ڈی کے شیوکمار کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، محکمۂ انکم ٹیکس ایک آئینی ادارہ ہے سیاسی مقاصد کے تحت مودی حکومت نے اس ادارہ کو کھلونا بنارکھا ہے جو قابل مذمت ہے۔اس طرح کے حربوں سے کانگریس خوفزدہ ہونے والی ہے اور نہ ہی اس کے آگے گھٹنے ٹیکے گی۔ انہوں نے کہاکہ راجیہ سبھا انتخابات کے مرحلے میں اراکین اسمبلی کی وفاداری خریدنے بی جے پی کی کوششوں سے بچنے کیلئے گجرات کے اراکین اسمبلی بنگلور پہنچے اور یہاں انہیں ایک ریسارٹ میں ٹھہرایا گیا۔ اسی کو بنیاد بناکر محکمۂ انکم ٹیکس نے ڈی کے شیوکمار کو نشانہ بنایا اور یہاں تک کہ آئی ٹی افسران نے گجرات اراکین اسمبلی کو یہ دھمکیاں دی ہیں اور رقم کا لالچ بھی دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس امیدوار احمد پٹیل کو ناکام کرنے کیلئے بی جے پی اس قدر نچھلی سیاست پر اتر آئی ہے۔شیوکمار کی رہائش گاہ پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپوں کے دوران ان کی رہائش گاہ کے باہر مرکزی دستوں کی تعیناتی پر بھی وزیر اعلیٰ سدرامیانے سخت ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ریاست میں نظم وضبط کی نگرانی کا ذمہ ریاستی حکومت کا ہے ، محکمۂ انکم ٹیکس کو چاہئے تھا کہ چھاپوں کیلئے ریاستی پولیس کی مدد لیتا ، ایسا کرنے کی بجائے ریاستی حکومت سے مشورہ کئے بغیر مرکزی حکومت نے مرکزی دستوں کو تعینات کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ شیوکمار کے گھر پر انکم ٹیکس کے چھاپوں کے دوران کیا ملا ہے اور کیا نہیں اب تک کچھ بھی منظر عام پر نہیں آیا، اسی لئے اس پر بحث نہیں کی جانی چاہئے۔